اف مھا رکم رت (عت ضات سے جظرمیں رکز جراععت اسلائی ہند ٹیس منعق تر بی تگاد ٹیل ”ا قاممت دی نکی اصطلاب او راس پر اعتزاضات“ کے موضورع>] [ ایک نتر ری اگئیاسے بیہال در اجار پاہے۔ امت مسل مہ پے ال کا ہڈا می کہ ایک صصعدکیے دا کے بت سے ملکوں میں اسسلاجی جاعتیں اور" یی کام مرج ہیں اپنے اح ال کے مطابق دواد کے وین 9پ ۶ ۶۹ 2ب رہ دی کا تو ر سا اع ہے یچنی وہ نمور جس ٹیس دبین کے سسارے پاب کول پ تج د یگئی ہے۔الیی جھا ختو لک اسلا می تح یک کہا جاتاے۔ا نکاار نی یں منظریہ ےک الع س بکو ششو کی ابتقاجماععت اسلا ئی او راخ انال سلمون سے ہوئی سے ۔ اک میں اس 2 6 وص سز زع ل نون کے ناو نتر کیا تھا۔
جازومطظہریہ ےکہ چچی ربع دی یس پو ری د ای اسلام او رکف رک مشش تیزہو گی ہے اوردن بن تی ہی جاردی سے ان شش میس اسلام کے دامیوں کے سان جودشوار یاں ہیں اس یں ملرالوں کاے می ایک بی دشواری ے۔ مسلرالوں یس گن خالارو لے موجوو ہیں لک رید مکی ء رہ پر انے ہد تۓء دوف رود عوت کے رات میں ال کیں۔ ال سب دشوا ہیں پر دن کے نماد مو کو تقابو پان اے۔ مسلمائوں کے روبیو ںکی اصلاںبھ یکرٹی سے اورا عکوصا صلی پ ھی اچھار نا ۔آز ند نیاکی عموئی صورمت عالی ہ ےکہ اسسلائی تح یک نے ج پغام یی کیا سے دوان عنا ص کو امگوار ہے جو الہ سے بات پرآمادوڈیں اور جو ىہ جات بلکہ پا گید نیایر الد کے باغیو ںکی مرضی جچے۔
اسلائی و عو تکی عم بروار نہیں جب ان ہوکیں اس وقت بھی ا نکی دعوت ہ گے میں پپند نی ںکی جا تھی کہ
بتض علتتوں میں ناگوارکیکااظہا کیا جانا نما اب اس مخالفت یرت ڑھ گئی ےءاسسلا ئی اصطلاحات شی الس وقت خمائک طورپر یع اصطلاحات مالغ تکا نخان یں ۔ ا فخاممت د ین ء اسسلا یر بیاست اور جباد الع تن اصطلاحا تکی “حوی تک َ کر ے والوں ٹیل دانا وشن بھی شال ہیں اور نادان دوست بھی۔ بل دنوں چاو کے موضو ہپ سکنایں سان آئی یں ء جن یس بب ت کی سے باتوں
کے ساتھ چاو کے سلسے می غاط بات سبھ یکپ یکئی ہیں۔ البتہ اسلوب مگار شض عالمانہادر سید ہہے۔ای رس بداو تیر وں یش اقامت دین اور اسائیر یاس تک متصودی تکی یی جار ٛے۔
اہاائی اصطر(ا گل بی واقععد ےکہ ملف احوال یں اسلائی خیموں نے اپنے پام اورد عو تکا تقار فکر انے کے لیے مناسب اصطلا میں اعتمال کی ہیں۔اسلام ہیں کے لی ےکون سی اصطلا جح دای ا تما لکرے اس کے لیے دا ج یکو ححمت سےکام دنا ہو تا ہے قرلن وحدریث سے بی اصطلا عیل ماخوذہولء یہ بات بہرحال لازم ہے۔ چنا نچ قرآن کے طالب حم جات بی ںکہ اعقاصت دن ءا ہرد بن امر پلمعروف وٹچی عن السنکر ؛شہادت خی الناس اعلا مککرہارڈدءد عو ت دن ء ىہ س بکلی کید بنی اصطاا حیس بہیں- ان اصطلاحول میں را لن کو تخاطب کے دور ان استتعا لکرےء اس سے میس دنن اسے پاند تھی سکیاے۔ترآنع ود ریث کے دائرے ٹیل ء عالات اور نے والو کی ر عابی تکرتے ہو قمام موزوں اصطاا یں استعا لکی چائکتی ہیں۔ دجو تکی ملح تکایہ تقاضا ءہرعال ےکہ اصطاا حیں اڑبی تج بکی جائیں جو زیاددے ز یادوجائم ہوں۔ مطلوب بہ ےک دبین کے تارف کے ذبیل یس دی ہدایات و تحلدمات کے میتی معالی وگول کے ساٹ ےآاھیں۔ ا للیاطڑ سے جب خو رکرتے ہیں فو کور ہ الا اصطاا ول میں ,نا ججاعت ومن کہ سب ےزیادہچا مع اصطلاح معلوم ہوکی ہے۔ جمامحعت اسلا می اب نصب١ لین سے کر ے لیے اتقاممت د ہن ى یک اصط(ا استجال کرت ی ہے۔ ہہت سی اسسلا ئی تتفیئیں دوسرے الفاظ اتا لک کی یں بہذم دا گی بجماععت اسسلائی کے اکا نکی ےکہ انس جامح اصطلا نکوز ند رمحیں.أسے مت وک نہ ہونے دمیء صے مڑیکاوش سے متعار فک اگیاے۔ ور مخلعصس عحناص رکی بھی ذ مہ داریی سے کہ دی نکی ا قامم تکاجذ ہمت کے اندد پی راک رمی۔
رہجمایجعت اسڑائ یکا ستور جماعحعت اسلائی ہند ای عدر دک طاقت کے اط ے لوزیادہ وی ین نی کے کاپ وک ور تھی ے۔اللد 2022 نیلک رکی حامل ے جو مضبویگارہے_ایل حم ج سک یر ات ہوں اس پر انیس ار ہنا ابیے۔قرآن وسحت سے کول یہب کر ےک دای گرووکے پغام .ھ29 یاےءواصلاں اکر بین جا ہیے۔ بن شض نادان لوگوں کے شور شش اہے اور خالفت نیزیر وییگنڑے سے متاث نیس ہو ناچاہیے۔ عالات مخت ہول نون سے متاشر ہو نے کے در ججانات پیر اہونے گت ہیں۔ ان
سے ہ وشیاررہناچایے۔اویہ سے یچےءفوجوانوں سے سن من نک سے بین عم اناد رن کاح صلہ ہو ناجا ہبیے۔
دین کے ناد موں اور کے دامعیو ںکو کاسلائی ری 70-0 تم دہناجایے۔ام گر یی ین مکش میں موڑوں اصطلاحو کی
07 ےت
اہم بات یہ ےکہ امسلا مکی ت جماٹی کے لیے د بنی اصطلاجوں کے ذکر میں دا ج یکو جھمجلنا نکی چا ہے جچہادابم دبٹی اصطلاح ہے دنر اصطلاجو ںکی طط رع بات یت مس جہاں ضرورت ہوء ال سکاذک کر ناچا ہیے۔ ای ط را قامت دن الیک بذیاد کی اصطلا سے اسلا ٹی نصب١ ین کی دضاحت کے لے بوقت ضرورت ا لکااستعال 08070 ظاہرے کہ اتقاصت دی نکی تق جس اس لائی ربئطت کے دک کو طز کی سکیا اض ئن لیے اسملائیر باس تکا تارف تھی ءاسسلام کے پیا میا حصہ ہسے۔ جراعت اسلائی بن کے دستور بیس اتقامتِ دی نک مطظہوم یا نکرتے ہہوے بھبیاد کی بات در نک گی ہیں۔ بماعت کے وستور کے ا ائی صے میس اسلائی عخقیر ےکی تق رج کے بعد نصب نین در عکیاکیاہے۔ نصب اتین کے مت ہیں ووف رض جو ہروقت ہگاہوں کے ساسئے رہے۔ جوکام ائلایمان پکوکا رکا وحیات میں تھا اکر ناے وو٘صپ| ہس شش تآاے۔ جماععت اسلائی ہناد کے وستور میں کک گیا ےکہ جماح تکا مب ا۲ن ا امت دبع ہے+ جس کا تبقی ح رک صرفرضائےالی اور فلا ںآخرت کا حول ہے حتیقی محرک+ دیگر صاغ مرکا تک لٹی خی ںکرتابللہ ووسب تفقی مھ رک کے اندرشائل ہدوت ہیں۔ مان اضر تکی فلا نکی شمناءانمانوں 2 ین کی و نان تی 2 1 2 ہیں ان
اقامت وین کے سلسلے بیس ذ من میں پہلا سوال بآنا ےکہ لفظادبین کے معن یکیاہیں ؟ وین کے مع سیر ابوالا لی مودو دی نے ایق یکنتاب نفران کی ار بفیادی اصطلا 924 ٹیس ان ہے ہیں ۔ تاب میں ز یرٹ چا ریا اصطا گنا ارت ا عبادت اوردریں۔-
دن
دن ای ککلیدی اصطلاح ہے سد مودود کی بکورہ شی تصنیف ٹیل دین کے ار معاٹی ان سے گے کیں مان میس جھ فی ءا امت دی نکی اصطلاح سے مناسبت رکتتاے وو سے ” زی رگ یگزار نےکاط روہ“ یہ مفہوم مسلمانوں کے ور مان محروف
کے مو کی یس دی ن کا لنیااستمال کر ڑا ہے نواس سے بی می ادلیتے۔اں ممبوم پرولالت کر نے والی ران ید 0-01 آیات مو جو د ہیں ین سے استفادہکیا جاسکتا ہے۔ رن دگی گگزار نے کے راست ہک یتیل اد کی ش رعت بناقی ہے۔ دی نکاملہوم حجان لین کے بعددو ضرا ام سوال سا ےآتاے ءجوخووانسالی زنر ےھ ای ظا ے کہ انمائی زن گی ہے بہت سے پہہلوہیں۔ متا نسالی تین ے ملق ایک مو ضوح یمان ہے۔انسان ے لیے موزوں حم لکی زنشاند ہی کبھی ایک ا بھم موضوع ہے۔انساٹی تعاقاتءنظام عکومت, ین دین کے ط رق میہ سب زن لگا کے اہم ا مور ہیں۔ سوال می ےک کید بین یس یہ سب باخیں ثائل ہیں پا تح بش اور ءدی نکادائروڈیں۔ یہ سوال بڑاابھم ہے۔ ق ران یرے معلوم ہواے کم دین میں زنر کات ار ایت انت مسلرانوں میں انلم شردے۔
اس جا دن کے بارے میں قرآئن ید ہریت د تا ےکہ ”شی اال بین “یی دی نکو ظا کرو سوال می ےک اس ججملے
یس دیع سےکولن ساد ین مر اد ہے؟ اکا جو اب بہ ہ ےک اس سے مراداسلام ہے .ات لم کور و شی بے بات وا سے۔دستور جمراعت اسلائی یش وضاح تک یگ ےکہ ”الدین؛ سے مراداسلام ہے :اس ل کہ اد کے نزدی ککوگی اور وین قابیل قیول خی ہے۔ انس قرع خی اک رن راخب علم واقف ہے۔د سور جمامحعت اسسلائی یل ضپا سو 2و فا ار فا آخرت کے تو لکوقراردیاگیاے- 21 ح رک یر ےکہ افمای مسائنل عل ول ءانسمانو لکی مشکلات دور ہو اورانما نکی ٦ص 00 کات رضائے ای اور فلا پآخرت سے ہ مگ ہیں۔ان اتی تن ین شاو تین کا
اقاممت دی نکا موم ترتیب کے لحاط سے الا ام سوال بہ ےکمہ دی نکی اعظام تکا مل پکیاتے۔ انس متوال کے جواب کے لیے اققاممت دین کو قامت صلو یر تا سکر سکت ہیں۔ ا تو اااصلاۃ کی تین ؛کتاب لی ہس بد ارئی ہے اقامت صلوہو جو مفہو مامت مچھتیے ودب ےک ا امت سے مج نمانہکی ادا گی مر اد یں ہے۔ بلہ امام کے سا تج اس م2 ادرے۔ ما ہتمام میں ىہ بات شال ےکہ نماز باجماعحت اداکی جا ےء مسماچ رکا 2 ات ہو ء جب نمازاداہو وش ازیا وآداب کے سا تھ ہ٭ء اس کے اشرات لو ری زن گیاپہ مرتب ہوں :جو لوگ نمازادان ہکررے ہو ا کون جردلا گی جاۓ اود رے معاشرے میں نما ہکور وا جع دیاجاے۔ ىر سب امو اتقامتِ صلو یں شال ہیں_ عحض سوہ لفطوں میں مازاداکرن کا عم نی د ماگ یابکہ ادقامت صلو ےکی ہریت د یکئی ے۔
اقالمت صلوق پر قیاا سکرتے ہو اعظاممت وین کے معن مین کے جا سکتے ہیں گو باہدبیت صرف اتی نی د یگ کیہ دینا ہہ مل مرو ہبہ ر بکانحات یکا ےکہ دی نکو قاع مکروشتنی دبین پر ش لکروورے امام کے ساتیھ۔دستور براعت ٹیس درج تنش رر یں می بل تک یک ہے۔اقا مت دین سے مرادمیہ ہ ےکہ اس پارے دی نکی مخلصان رو کی جائے۔اس میس شیک نی سکہ انقاصت دنہ دنچ عم کانام ہے۔البنہ مطلوببہ ےک وین پر عمل اجتمام کے سات ہو کسی تمف ربق و تیم کے بقیرءپوورے دی نکی مخلصانہ کی ی واتےن ط فتے کک کی اتکی کی سک کک کن کر حرف ا2ا نکی کے ال اوراا گی ا مگوشوں میس ال کے دی نکوااس ط رح جار او ناف دکیاجا ۓےکہ فردکاار تقاءہ معاشر ےکی تق راورر یاس تکی تفگبیل سب پیک اید ین کے مطا لن ہو۔
فردہ سما جاور یاست ہ تل سے درین ختطا بکممناے۔انقاممت دی نکی اس تنش رکاج جزءکوزاہ نو ںکوسب سے زیادہ اگوارہےء ور یا تکی تگمیل ہے۔ا نکی الپندی گی کے باوجود----واقعہ یہ ہ ےکہ در ج بل تش رج ءاقامت دی نکی درست نٹ رجے۔ ہ رفس جاتتا ےکہ علومت ور یاست زن دگ یکا ج ہے ۔ جب دن لو گیاز گی سے بح ٹکراے فور یاس تکوکسے نظر انا زکر مکنا ہےء چنا مہ اقامتِ دین یس اسلا می ر یاس تکی تیل وقدنشائل ہے۔د سور جماعت میس مزید وضاحت کے لی ےکہاگیا ےکہ وین ہقاخ مرن ےکامشالی ضمونہ یکر مم یم اورپ کے خلا ۓراشھ بی نکاہے۔ ظاہرےکہ امت بی اس اھر کوک اختااف میں سے کہ دور نو اور دو غلافت راشرہ مثالی دور تھا جو مسلرائوں کے از کول کی حقیت رکھتاے۔
ایق کاب ””خلافت وط وکیے ٠“ میس موا نا مودود نے خلا تر اشد کی سات تصوصیات اک ی ہیں۔ مین انتقالی خلافت شور وی ط رز عکومتءببیت الما لکاامانت ہہوناء عکوم تک جوابدبیء الو نکی الات کیہ صصییتقوں سے پاک رز حھرا اور رو جمہوری تکی موجودگی۔ ین لوگ یگنت ہی ںکہ خلافت اور باد شائی می سکوئی فاص اقیازنہ تھا۔ یہ خیال 3 یں ے۔ مولانا مور ے باب ےکہ دوسات بفیادی اصمولء جو اسلام ٦ صصل وین میں ء خلافت راشدرومیس موجو و تھے گر بد شاہی بی ووضا لطے قائم نیس ر ہے خلافت راد ہکادور مشالی دور تھا۔ پور کی امت کے نزدیک دہ مال دورہے۔ ای ون کودین کے ناد موں کے یی نرہ اچا ہے۔اقامت دی نکی ہہ دو تق رم ہے جوداعیان ت یکو ھن بھی ہے اود یا ھی نی ہے۔
الا ئیر یا ہت الا ٹیر یاس تکی مقصودیت یبن اعتراضات سیے گے ہیں۔ ایک اعترائش بی ےک ” علومت اللہ تھا یکاانعام 29/0 لیے ارادی وشعور یک وشن لک زاائل ایمان پر فرضضل تھھیں_ علومت دوانعام سے جوا یمان اور کنب کے نس2 گی جانب سے مو مو نکو اکر تا ہے۔ چنا خچہ اسلائی نقیموں کےکا رکزان جب سکیتے ہی ںکہ وین قا مک رن ےک یکو شن شک روہ جس میں بی بات شال ےکہ اسلائی عکومت کے قیا مک یکو شن کرو )نوا نکی می دعوتءاسلا می مزا کی ت جمالی خی سک کی ۔ دی نکاہم سے ہہ مطالیہ غییں ےکہ علومت کے قیام کے ےی ا ال اعتائض میں اتی بات ےچ ےکہ عکومت انال تال یکاانام : ہے۔ رن ید ہیل ہے
کس نظ دم ان ای
رت تپ وت 4 7 گرب 7 ک فو ویو ے مر کے وپ طض ہے ج ےک ا ا ای و نٹ نے
ھ الال نان و باذاا اض لآ تج
(۵۵ :ور)
تم میس سے ان لو وگوں سے جو ابیمالن لا ے او رجف وین نیک ش ہیے ءاول تھالی نے وعد ہکیاے 27 یں ضر ورزین ” ٹیش خلبفہ بنا گا حیبراکہ ان لوگو یکو غلیشہ بنا اتھاءجو ان سے پیل گنال لھا یانقتااق کے لے ان کے اس وی ننکو مضویا ذیادوں پر قا جرد ےگا سے ودان کے لیے پپن دک ہے دوا نکیل( مو جو دہ حالت خحو فکوامصن سے بدرل دےگا۔ ہس ودمی کی کی ال ا وا ا ا مل ا
کر یک اق ات کن ا ےک لت فا ۸ر جا کورتقوال تا کر وعد ہکا ےکہ انیل ز م۲ن می اقۃرارجنےگا۔ مین قرآن میرم مجح ببی ای کآیت نیس ہے :جو اس موضو کا ک کی ہے واقعہ یر ےکہ عکومت کے سلسلے میس ایک پہلوانعا مکاسے ج سکاا سآیت می ج کرہہوا دوس الو صاغ و عاول علومت کے لیے اس :می وک وشن کا سے جس کا مطالبہ ئا مان سے قرآآ نکر اے۔اس دوصرے پابا پان کر دہثال کے طور پر سور وصف میں سے
مل م۳ تاذ دنن و 22.2 تک رر 277 یشک تق ناشن تا مل مس ےت بَا ٥ات عر ناک و تم 0د ت0
ے
0وَأفری تقو شع ارد کیو مث لت
ا١-۱۳١(
اےلو دو جوا یمان لا ہوء میں تاوں ٌُُ کو وہ شارت جو میں عذراب امم سے بادے۔ایمان لا دراو راس کے ””
ر سول پر اور چہادکر دای کی راہ شش اپنے الوں سے اور ابی جائوں سے کی تھہارے لجیے بتر ےا ارت جانو۔اللہ تمہارے ناو معاف کرد ےگاءاو رت مکواپیے با ول میں داخ لک ےگا جن کے یچ ری بہتی ہو ںگیءاوراد کی قیا مکی جنتوں میں کت زی نکھ میں عطا فرا ۓگا۔ یہ سے بڑئیکا میالی۔ادرائندوددوس رىی چی بھی ہیں در ےگاجو تم چا ہو۔ شیا کی نصرت او رق ریب بی یں حاصل 7 9217 ٹیا ای ایمان وا کی شارت دے وو
ا نآیات سے فوریپیلے اس سورت میں منصو ا یکاوکرے کہ ال تال دن وغل بکمرےگاء چاے مہ اع رمنش کو ںکو کننای ناگوا رگزرے۔ پھر مسلمانو ںکو شف ع بش تیارت کی ت خیب د گی ہے۔ مار تکامفوم بیا نکرتے ہوئے ساد معنوں میں ایمان اور مل کے ذک رپ اکنفا نی سکیاگیابلکہ مسلمانوںل س ےکہام گیا ےکہ ایمان لا اور اید کے رات ٹیس چچہادکرو۔ جہاد یق نا مل صا کا جزے ء کمن ا سکاب تک ہناپہ صراحت کے ساتھ ال کا کر ہے۔ پچمربتایاگیاکہ چہادکاصل کیا ہوگا۔ ددىی ےک اللہ تعاٰ تین موا کرد ےگاء می لن جنت بین شمیس ہچگہ د ےگاادزائ دیاشین دودد وع کیچ بھی در ےگاتو تم جات ہو۔ دو نے جو جلد جاک و کک
۱ فناے ال یکی وضاحت کے لیے سور مہ ص فک ترتیب پ بھی خو رک ناچابیے۔ سورت ش رو اس تحبیہ سے وبا ےک شی لوگ بڑے بڑے د عو ےکرتے جےکیہ یم الیم کے رات میس چہا ہکم ناجاتے ہیں ء ان ہ ےکہاگ یک دہ با تی سکیوں سک ہوجھ
کرن کااراد نی رکتتے۔ پارہجار پنی مشالوں کے کر کے بحد بنا یاگ امہ الگ اپنے دی نکوخال بکرم ےگا ہس نے رسو کو بھیچای اس مز لے وت
لو گککتے ہی ںکہ سوروصف می ا ہار دی نکی نسبتء اڈ دکی طر فک کی ہے بہ بات ہی ے۔ لیکن اود خودا'ابمان کوہلار ہا ےکہ اظہایدیین کے ل ےکی جانے والی سجی ٹیس حصہلو۔ ائلٴا مان کے لیے سعاد تک بات ےکہ نکوشش مک تکام وج لے۔ ححضرت یی علیہ السلام نے ای لیے حو ارول س ےکہاتھاک ہکون ہے ال کی رف می رامد دگا ؟ اس مال کےجزکرے کے
۔(ساتجھ ءاںیڈرنے مومھنوں س ےکا ےک ہکووااْصار العدا 2ال کے مردگاربتو
انآیات سے وا ہوا ےکہ انہاردین ےکا تیم میس شش رکتءانسانو ںکادر ج بلن کر نے کے لیے ہے۔ الد نکو
مٍ ارات کہ تم ا سکام ٹیس حصہلو۔ ا ںکاظربقہ بی سے کہ ایمان لا اور اھ کے رات میں چچہادکمر و الس خدعمت کے نے
یں اج کے طورپر جمنت گی اورد نائیس بھی جا صمل ہوگی۔ حی علیہ السلام کے پیر وو ںکی مثالی د ےکر بنا گیا کہ پالاخر وہ
اپن مخالفین پر ذالب ر ہے۔ بلاشیہابلاایمان سے ال تھی نے یہ غی سکہاکہ کے لی ےکوشن کرو قرآ نکااسلوب یہ ٹیس ہے بلہ
ا اما نکودہکام بتاپاگیاجھ انی کر ناہے۔ بی اسلوب مناسب ےک الا ما نکو یادد با کیا جات ۓےکہ دی نکی پیر وگ یکر و جس میں ۔ جہاد شال سے۔ پھ رف تع رک وکہ اللہ عطاف مات ےگا
:جناب شی امھ عثالی سور وص فک ج کور ہ بالاآیا تکی تق رت کرت ہو ےکھت ہیں
ال دی نک تمام اد ان پر خال بک ناٹواللکاکام ےلین تمہاراف رض ىہ ہ ےکہ ایال ری طرح مقر وک راس کے ۰ “رات میں جن مال سے چا دکر و
یھ بات درست ہ ےکہ ق نکی ل٣ل کاانعام سے لین اس افعا مکوحاصس لکر نے کے لیے ایل یما نک ھی بیج در اے۔ جک زے وواللہ تھا نے ہناد ڑے۔ ج نکی ا کامظ رب ےک لوگ ال کے دین میس جوق درجوق داشل ہہوں۔ بی ال کے دن یس داخل ہونے کے رات میں حائل رکاو ٹس تم ہو جاکیں۔
کرو
2 0تت ڑا با تہ زیت لے نپ دی جا 0 رای نا اع (رص) و
جب ال کی مددرآجاے اور لیب ہوجائے اور تم دا کہ لوگ فوع در فو جال کے دبین میس داشل پورے ہیں تو * “ایند بک جح کے ساقحد ا سکیس کرد ءاور ال سے مخفرم کی دعاا کو بے شیک وہ بڑاتبہ تو لک ے والاے۔
موا :ااشرف می تماد یکا مو تیف مو :ایی بر صخی رکے مروف یا مگکزرے ہیں جن کے تعھی مقام وم رت ےکا عتزاف سب ن ےکیاہے۔افھولیے جباد : کے سمل میں فرمایا
یی ہہ فللدےکہ نمازروز ہکوکامیاپی شی سکیادخل سے أسی طرم بھی تچ نی ےکہ نمازروز ہکا میالی کے لے ” کا ےکک و لال اص کے شاپ ںکززخالی مماز رد وت مھ یکا میالی خجیین ہق دض + مکی .بک لیک دو یبن کا بھی ضرورت ےاوروہ پچ قال وچھادرے۔
فا کیج حیقیت ے نمازروزواور ققال بی فرق بی ےکہ زمازاور وز :خی ہکی ش رط ےءاگر نمازءروزواوراطاععت ہوگی تَخلبہ ہوگااور چہادء کی علت سے ۔گونمازءروزوف رض میلع سے اور چہاف رض کاب ےگمر خل ہکی علت چہاددی ے۔
پیں ثابت ہواکہ مسلمانو ںکیاغلبہ ءدونوںل ہی چو پر مو قوف ے۔اود مہ می رکیار اۓ آج سے میں ببیشہ سے ےک جب کک طاعت کے ساتھ قال وچہادنہ ہوگا:اُس وق تکیک مسلانو ںکوفااں میس رخھیں ہو مکی“ (بہحوالہ اسلامی حکومت و (وستور مللتء عرتب ئھ زید مظاہ ری نر وی
: مو نا تھا کی نے ایک دوسرے مو پر فرمایا
می کیاکی تمنااوردعا ےکہ ال ای ء علومت عاولہ مسلمہ قائفرمادے اور یں ا سکواپ یآنگھوں سے دک لوں۔ میں نے عادلہ(ششقی ش رایعت کے مطا لق انصا کر نے والی علومت )کی قی راس واسے گال یقکہ سلطنت مسلمہ نو پر د تال یآ نعل بھی متعرد (چہ ہیں گر عادلہ نیں۔ بللہ س بک عالت بے راود وٹ کی ہے۔امو و شرع ہکی پابند غییں_ “ 0
موڑانا عمب الماجددد بابادگیار ادگ ڈی سکہ ۱۹۲۸ء یس جب نکی بات ( مو لا نا تما وک یکی خحدمت میس )حاض ری ہو گی و اس
طلاقجات میں حضرت نے دا الا سلا مکی اسحیم فاص یتنصبیل سے بیان فرماکی تش کہ ”نگ بوں اتا ےکہ اسیک خ لے پر خال اسلائی
عکومت ہو سارے توا نین وتتز برات و خی ؛کا جراوا<کام شربیعت کے مطابقی و ءبیت المال ہو نظطا زور ا ہوہ شر گی عدالتیں (قائ ہوں وغی رہ اس متصصر کے یے صرف مسلمانوں پ کی جماعت ہولی چاہے اوراس یکو یکو شن لکرنی چاے_“ (ایتاً
یھ
اقامت دی
سیرااوالا عی موددد نے وین کے ظا حیات ہو نےکاتصور ٹڈ کیا۔ خصف صدیی خمل ایک صاحب علم نے اس تصور پر
تق رکی۔ ا نکاکہنا یہ کہ موا زامودودینے تصوردین کے سلللے یس جو باجیں شی کی ہیں سب جع یا نکی ہیں کوگی بات خلٰ خی ہے۔ لین دی نکاجو مجھ و گی نام وہ ٹن یکرت ہیں دددرست نیش ےء اس لی ےکہ انس مجھ گی خاکے میں اٹھول ین اسسا ھی محکوم تکو اد اریت دے دگی ہے مہ دن میس اسلا می لوم تکوبیاد می اہمیت حا صل نجیں۔بلکنہ صاحببا یمان کے اوڈرسے نعل یکوفیادنی اثیتعا گل ے۔
اس تحقیر سے متا لانیک سوال مولا زا مودودگی سے لہ پچھاگیا تھا کاب ”نر ساتل وم اتل “ میس ا ںکاجو اب در
ہے۔ بہت سے سواللات کیہ گئے تھے ءالن یل سے اسیک سوال یہ تھا۔ ”نمازور وزوہ کو ور اور چہادءالن عبادات یل شر جا مقصو
الد ا تکون کی عیادت سے اور اوٹی در ج ہک سکو حا صمل سے ؟کینخماز ور وزو رج ء زوءاسلام میس مقصوو میں بللہ ا نکی حیة ۔ “اور و سان لکی ہے۔ مقصوددراصمل چہادے؟ مہ عقید ہآ پکاسے پا کیل ؟
:موا نا مودودیی نے اس سوا یکاہ جو ابدیا
میرے نز یک مقصودور اصمل ا قاممت دین ہے ان اشیمواالمد بن ولا ”نف رقوافی-(وی نک تا مک واو راس میں تفر ق۳ نہ ہو حا )۔ نمازءروزد ری ء زوس د ین کے ارکان یں جن پر دین نقائم ہوا ہے۔ اس ےا نکو تا مک ناءا امت دن کے لیے مطلوب ہے۔اور چہاد چ کیہ دی کو انس کے پا رے نظام کے سا تج نقاخ مرن ےکاذد ایصہ ہے ءائس لیے دہ میا نقامت د بین بی کے لیے مطلوب ے.. نی يك نے فرمایا: تشکیائٹس "میں دو زس نہ بتاول جو دی نکاس راور ستوان او رکوہا نکی حیشیت رجصتی ہیں دنھد دی نکیا اسلام ہے ؛ ا سںکاستون نماز ہے اور ج ہز رکوہا نکی حیشیت ر عتقی سے وہ چباد _ے۔
) (رسائل ومساتل حصہ چھاام
سیر مودودگی کے شی لکرد مور وین پر اعترائشء موا زامودود کی با تکونہ مب کا مت معلوم ہوا ہے مولا نانے ہے
تی ںکہاکہ دی نام رکزئ کت امسلا ھی علومت سے مولا نا مودددگیانے یہ بات ٹین کی ےک ھ رکز یکلہ دی نکی اتقامت ہے۔ اگ ملمان مہ بھول چاکی ںکہ انیس پورے وی نکو تا مکر ناے وگو با ھوینے دی نکو مچھای نہیں یہ مولانامودود کی بفیاد یھر ے۔ سیر مودو دی کے تصصورر وین پر تقییر کے باوجود چا ں کک جماعحت اسسلائی پاکستان اور جراعت اسلائی ہند کے کیہ وگرا مکا مازے, مرکوروصاحب لم نے الپ ورام سے انفا قکیاہے۔ا نکواختلاف صرف تیر سے ہے جو وی نکی وی نر کین من کی کاہے۔اب بات قائل ور ےک کس کن ےکہ تقصورقذدرست نہ ہ گر گی پر وگرام دراست ہو یہ بت عمکن غییں معلوم
ہولی۔داقعہ یہ ےکہ جماععت اسلائی نے شس رس وی نکد مچھاادر جن کیا ء ودای ٹم کے مطابی ہے جوامت کے اندرر ان اور مروف ے۔ جماععت اسسلائی نے دی نک یکوکی ای تق رن خی ںکی ہے جو ام تکی روایت سے ماف ہو۔
نفازدی نکاطر لتہ عالبیدد نول میں ایک اور صاحب عم کے اعتراضات سان ےآ ہیں۔اعتراضات کے بیالن یل پاکنتا نکا یں منظ ربھلکتا ہے۔ و کی ہی ںک کسی مسسکم میک کے عوام منظو رک میں تذوہاں اسلائی ر بات قائ ہو س گی ء اگ رعوام نہ منظو رکر می نوکس یکوجن ٹیا سک الناپہ اسملائی ریا تکا نظام ناف زکرے۔
اس اعتزائ کے دو پچھلوہیںء ایک ھی سے اور دوس راگکری۔ یل کے اعاتپارسے جچہا تک اسلائی کسرن ج طر گار کامعاممرے و ہشٹیئیں, مسلمان مواشر ےکی اصلاح و تربی تکوبنیادکیاہمبتد بی ڈیں۔ ددراۓ عام کی ری تک کے بی اسلائی راس تکی جانب ٹیل قد یک نا چا ہق ہیں۔ موا نامودود فو گی انقاب کے تقائل نہ تے۔اس لیے موی د نیائٹل :اسلا می تج ریکوں کے رٹ پر می اعتزاض وارد کیل ہہوتا۔
:سد مودودگیکتے ہیں
اسلائی تم رییک کےکا رکنو ںکومی ریخ ری لشمیحت بر ےک انیس خفیہ تح میں چیلانے اوراسلیہ کے ذر ہے سے '* انقلاب ب پک رن ےک یکو شش کرک چاہیے یہ گھیادراصمل بے مب اور جلد بازئیاہ یکا الیک صحورت ہے۔اور متا کے اعتارے دوم ىیصورؤوں گا ٹیہڑ یادہخ اب ے۔ایک 3 نتقلاب پکبیشہ عو ابی د محوت بی کے ذر لے بر پاہوناسے۔ کھے بنلدوں عام دحوت پچیااے۔ بڑے مہا نپ اذہان اور اڈکار ٍ7 9ا ۳۳ ۲۰۰۰۳۲ و کیے_اورا سکوشش میں جو خنطرات اور مصائب بھی ٹین میں ا نکامردانہ وار متقابلہ جیے۔ اس طط رب بتق رم جوانقلاب بر پا ہ گا٥ دہ ایا پئنیراراد رکم ہوگا ے مخالف طاخوں کے ہوائی طوذان حون ہک میں گے جلد بازیی سےکام نےکر مصنو ہی ط ربقوں سے امگر (کوگیانقلاب روما و بھی جا شس رات سے وو ےگا ؛سی راتے سے ودمٹا بھی جا گیا“ (تظ مات ء حصہ سوم
جہاں تک ن کور بالااعتراض کے ری پہلوک تلق ےہ وو صراضافلط ے۔ جب یک نٹ ےکلہ طیب یڑ لیا وہ ورک زن گی بیس الیل کی اطاع تکاپاینرے۔ وومہ نی سکہہ سکنامہ می ریذن گی کے ہ پل می و ال کے وین پل ہوگاالیت می ری عم رصی سے تقائم ہو نے ویر یاست ءالشد کے وین سےآنراد ہو 71س0)]) بات شس مر الیک ایمائن لانے والا رد خییں کہ سکنااسی مر اسلا می معانشر وبھی نی ںکہہ سکنا کسی میک کے مسلم عوام وین سے لا تھلقی کے ان ہا راع نیل رھت ۔ج بکک وہ کم یڑ ھت ہیں ء دوب نی سکہہ سک کہ ہماری سای ذزن رگ اود ظا خاندان یں وش بیس تکی تعھم رای وگ ء بازاراو رین دن میس بھی ش اعت :افزہ وگ یگ رکا ر علومت ئیں نہ ہوگی ؛ج بکک چم ا سکی منوری نہ دمیں۔ یہ پالٹل فلطط مو قف ہوگا۔
رکورداحتزا کے ذیل می مھ یکہا جلتا ےکہ ”مگ رکسی مسلم ملک می ش ریعت ناف کر نی ہے نواس کے ایک ایک ۶م کو عوام سے منظو رک رانا چایے۔ مت عو ام کے سان مہ جو ہر گے کہ صودین دکیاجاۓےء ١ اگ رعوام منظو رک ریس توسودبند ہو جا ۓگاء نہ منقو کر یں توبن نی ہوگا۔ “ کوئی صاحب !مان مسلم عواممکا رض تسلیم خی ںکر سنا ۔ سکم تکاتقاضا ىہ یق سے کہ مسسلم عو ا مکی تربی تک جا اہ دین ح نکی قدرد وقبت سے وواگاوہوں ءا کو بو نہ ھییں۔ لیکن بی با تکہ ش یج تکانفاذان کی منظوری پر خحصرے ء خلططخیال سے۔ رت ال مر نے ما تو رر سلسلے میس جور وب اخختیا رکیاو وس بکو معلوم ہے
۱ اکر صاع عناص رکواقر ار حاصمل ہو فونفاذ قانوان'الی ءا نکی ذمہ دارکی ہے یہ با تک دو وا مکی مر شی کے خنظر ہیںء یر درست موتف نھیں ہے دبین کے موقف کے مطابقی جو مج طربیقدے ددی ےکہ اقترار عاصل ہو نو بنرر تج ء؛شریعت :انی جائے اور عوا مکی تربی تک یکو شش بھی ہو۔ ش بیج تکانفاذل وگو ںکی مر ضی پر مو تو ف نہیں ے۔
مصلون چرار یس ل وو ںکاکہنا ےک دا سے عم اور بج رکومٹانے کے ل کو شش ںو درست سے اور اس میں طاقت ضر فک رن چاپےء یہ دی نکاتقاضاہے۔ لیا نکف کے ل ےکوخ مکرنے کے لیے کس یکو شش اور چہادک یکنائیش نجیں ہے۔ اس اعتا کی تار
سکہاجانا ےکہ الد تھالی نے انسا نکوہ ےآ ادکی دک ےک دہ چا نو ابمان لا اور چاے وکف رکمرے۔ا لآنراد یکا مد عابہ ےکہ افرادی رب نما یگمروہو ںکو بھی ہآزادی حا صل کہ دواہیں نو این ز بی رتساطا علاقوں می سکذ رکی علومت قاع مکریی۔
اپتی تحریروں میس مولا نا مودودینے اس غللط ٹب یکودو رکیاے۔ فر کو یآزراد یی یقناھاصل ےکہ وددین ت کو قول کمرے پان ہکرے۔ ہر عچکہ پیہا لی ککہ اسسلا ھی علومت ٹیل مبھی مہآنر اد کی حاصل ےک ایک شف چاے تو مسلمان ہد جائے اور چاے ٹوکفری اخ رہے۔ لین ال کی ز کن برک یکا امہ عق غنیں ےککہ دوائ کی مر شی کے ہیائےایقی ھر شی ءانساوں پد چلائے۔ ال کے فل کا ا بھی یقا جا وکا مقر سے محسلوانہ جا دکاا لک رکرنے وانے مر ین بساادتجات ممو لا ناشن ان الا گی اور امام فراد یک حوالہ بھی دیے ہیں لیکن ىہ دونوں اسراطین علمء مصصلوانہ چہادکی لئ ی زی ںکرتے۔ا نکی تیر اور تیر د بھی اتی ہیں۔
مصلانہ چہادپاعترات کر نے والوں نے ا کی ضرورت پر خور تی نکیااس لیے ایک غلطط مو قف اختیا کر لیاے۔ رن ٹیر انسانو ںکو پیا مد تا ےکہ وواپقی زن رگ کو ہاشل او رکفرسےآزا دکربکیں۔ انسائوں کے در مان اس پیا مکی اشماعت +د عوت سے ہ وگی کر صا کی تر و اکا انسانوں سے بات ہت کے ذر یی کیا جات ےگا۔ ا کو مچھانے بچھان ےکی سج کی جات ےگی۔ لین جبد عو تکاراستنہ در دکاجاۓ پورکاو ٹکودو رر نے کے لے بش طط استطاعمت ء طاق تکااستعمال در ست ہوگا۔ طاق تکا بی استعال بھی حدوداورآداب کے تحت ہوگا۔ من مانے ربیچوں سے نیس ہوگگا۔ ببہ رحال انس یآئراد یی بھی کے لیے طاقت کے جممانہ استعال کی ء ایل مان اگ واجاز تو گی براوراست ال سا لپ رٹ ا فان مسلانہ چہا کیا جا سے ا یں پیل اس یہ بح کر نی جا ہی ےکہ بیا نکردہ مقصد اہم سے پا یں انسانوں کے سامئے اسلا مکی دعوت یی کر ناءابلا ین اور قولی جن کے رات گی رکاو یں دو رکر اور انما یآزاد یکا تحفظاء یہ ضر ود کی سے پاییس ؟ اس پہ فو کر ناج بے ع نکی تہ سیل ۷اس پہ مل اوراس کے قبول
مھ
کرنے می ںکوکی رکاوٹ نہ ڈالی جائے نے ظاہر ےکہ مصلوانہ چہادکی ضرورت ٹیش خی ںآ ۓےگی۔ لین ار رکیاوٹ ڈاٹی جات و چجادکی
ضرورت, مسلرے۔
اس بج ٹکاایک ا مکلتہ بی ےکہ دنیا ہیں ال کے نل کاخا تہ انہر دی نکاتقاضاہے۔تقرآن یرس اظہاردی نکا ہتذکرہ جن مقامات بے
۳٣( :)0ژ ایز لی مو بای 3و ای ری الین ولک اش کو
دوایدتی سے جس نے اپنےر سو لکوہدریت اور دیق کے سا تح جھیچاسے اک اسے اور کی جن دبین پر غال بکمردے ”* وا مش کو ںکو ہکتزابی ناگوار ہو_
:کسی الفاط سور وص فک آزیت ۹ کے کی ہیں۔ سورو ریس بھی اظہاردی نکاذک ہکیاگیاے
(۲۸ :)0 انار ل٤ وو بای ودنا یور کی لی نکی الما شید 1
دوایدتی سے جس نے اپنےر سو لکوہدزیت اور د بین نی کے سا تح کھچچاے م کہ اا سکو لور کی جن دبین پر غال بکمردے ”* “اوراس جقیقت پر ا دک یگوابیکاٹی ے۔
:مور ٥ت ہکی ج مکورہ بالاآیہ تک تنش رج کے ذیل میں جناب شھبب رام عناپیککھتے ہیں
اسلا مکاخلبہء اق اد ان پر متقولیت اور ججت ود یل کے اعتبار سے یہ تہ رزمانہ یل بجگ اد نمایاں طور یر حاصل رہا” ہے ہائی علومت وساطنت کے اختبار ےہ ووائس وقت حا صمل ہو اے اور ہوگاء جہ مس مان اصمو لی اسلام کے پور کی ط رح پابند اور “یمان و تق کی راہوں میں مضبوطذاور چہادثی نل الل میں خابت قد مم تھے اتد ہوں گے
:سور کی درخ بالالی تکی تضی میس موصو فککتت ہیں
اصول وف رو اور تار واحکام کے اختبار سے بی دین اور بجی راوسیی ے جھ مر سول الد ینم لن ےکرئے۔ ”
اس دی نکوالٹدنے ظاہ رش بھی منکروں بر کک سب مم اہب پرغال فکمااور مسلمافوں نے صع بیو ںتک.. یڑک شمان وشوکت ے
لوم کی او رآحندہ کید نپاکے خاتے قر یب٠ ایک دقت ال نے والاے جب ہر چہار طرف دن ح نکی علومت ہ وگی۔ باقی مجت و ٤و یل کے ار سے فودین اسلام پمیشہ ای غاب ر اور رہ ےگا۔
:سودرو کیم کودہبالاآی تک تٹ رت کرت ہو جناب ا رف می تاب یلت ہیں
اقمام بہ مع اشبات و تقویت بالد لال و اسلام کے لے ہرز مانے می عام سے اور یہی منقابل ے انف یکر دکا۔ اور مع ” “ا ختبار انضما سلطنت, مش روط سے صلا رب ائ اد رین کے ساتھ-
:سوروص فک یآریت ۹کی تنش رب یس موصو فککعت ہیں
دی یکا اب ) با ختپار جچت ود لیل تو پھیشہ (ہوگا)اور بااختبار شوکت وسلطعت اسلام کے (وائح ہوگا) بش رياصلابٰل)” دن کے۔اورچ کہ یہ ش رطاء صحابہ میں پائی حجائی ھی ال لیے ہ آیتہ اشامت ر ساات کے ساتقھ بظار ت بھی ہوگئیء وہہ کے لیے “فنتحات عام ہگیا۔ چنا نچ ایمای دا ہوا
اساطیان ع مکی مند رج بال تر جحات سے بہ بات د ام ےک ”ا ظہاردین“ کے می این سے مل کے ژین: اوراس لے ے لیے جدوجہ کا وجوب تجح دور نہ یکک محدردد یں ے اورنہ سرز م۲ن جازکک مر ورے_